تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے


تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے


تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو

وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے


جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر

جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے


یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی

مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہت



POET: Muhsin Naqvi

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر



اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر


کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر


اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر


ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر


وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر


اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر


اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر


POET: Muhsin Naqvi


فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا


فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا

بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا


دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا


اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس
کچھہ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا


پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر
اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا

آرائش جراحت یاراں کی بزم میں
جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا

تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل
تھوڑی سی اس کے جسم کی چرا کے لا


گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے
میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا


محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا لا

POET: Muhsin Naqvi

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں


بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں


پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں


بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں


اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں


ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں


یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

POET: Muhsin Naqvi


Muhsin naqvi ghazals